Thursday, 15 March 2018

poetry 2





ضرورت تو دیتی ہے غرور بے نیازی کو
نہ ہوتی کوئی مجبوری تو ہر بندہ خدا ہوتا۔



بیان کر دیں جو ٹوٹے ہوئے دل کی حالت
یقین مانئے الفاظ کی رگیں پھٹ جائیں۔


کسی مانوس لمحے میں ،کسی مانوس چہرے سے

محبت کی نہیں جاتی ،محبت ہو ہی جاتی ہے۔



سنو اگر محبت مختصر بھی ہو تو
اُسے بھلانے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔



مجھے پڑھو تو زرا احتیاط سے پڑھنا
خو د اپنی ذات میں بکھری ہوئی کتاب ہوں میں


کیا کہا قاصد تو نے؟ زرا پھر سے کہنا

انکی آنکھیں ؟میرا ذکر؟ اور آنسو؟ یقین نہیں آتا



گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں من میں کیا کیا موسم ہیں
اس بغیا کے بھید نہ کھولو سیر کرو خاموش رہو






اس دنیا میں وفا کرنے والوں کی کمی نہیں ہے


بس پیار ہی اُس سے ہو جاتا ہے جسے قدر نہ ہو۔


عجیب حالات ہوتے ہیں اس محبت میں دل کے 

اُداس جب بھی یار ہو قصور اپنا لگتاہے۔



تجھ سے حال بھی پوچھیں ہم کس طریقے سے پوچھیں وسیم
سنا ہے محبت کرنے والے بولا کم رویا بہت کرتے ہیں



نہیں پسند محبت میں ملاوٹ مجھ کو 
اگر وہ میرا ہے تو خواب بھی میرے دیکھے


اک عجب سی کیفیت ہے میری اُس کے بنا۔۔

رہ بھی لیتا ہوں اور رہا بھی نہیں جاتا۔۔



کسی دن ہم بھی ڈوب جائیں گے اس سور ج کی طرح
پھر اکثر تجھے رلائے گا یہ رات کا منظر


عجیب سوچ ہے اس شہر کے مکینوں کی
مکاں نئے ہیں مگر کھڑکیاں پرانی ہیں۔

No comments:

Post a Comment