Sunday, 18 March 2018

SAD3




اُس کی محبت کا سلسلہ بھی کیا عجیب تھا

اپنا بھی نہ بنایا اور کسی کا ہونے بھی نہیں دیا

کیا رخصت یار کی گھڑی تھی
ہنستی ہوئی رات رو پڑی تھی

خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ
جن کی زندگی میں کوئی غم نہیں ہوتا

میری یاد قیامت ہے
یاد رکھنا آئے گی ضرور

تیرے بغیربھی ہم 
تیرے ہی رہتے ہیں

زندگی پل بھر میں کتنا بدل جاتی ہے ورنہ
جن کے لئے جیتے تھے انہی کے بنا جی رہے ہیں

میرے لفظوں کو تھوڑا ددھیان سے پڑھا کرو
میں نے سچ میں اپنی زندگی برباد کی ہے




تمہارا نام کسی اجنبی کے لب پہ تھا

بات ذرا سی تھی مگر دل پہ لگی بہت

زمانے کی محبت میں وہ لطف نہیں ملتا
پر تیری ہر اک شرارت دل کو بھاتی ہے

آج افسوس ہو رہا ہے اپنے حال زندگی پر
کاش کسی سے حد سے زیادہ محبت نہ کی ہوتی

دو ہی گواہ تھے میری محبت کے 
وقت اور وہ
ایک گزر گیا دوسرا مکر گیا

مانا کہ میں نے غور سے دیکھا نہ تھا تمہیں
سورج کو آنکھ بھر کے کوئی دیکھا ہے کیا؟

اب جو ملا تو بس دور سے سلام کریں گے
بہت غریب ہیں اب ہم سے محبت نہیں ہوتی

سر بھی نہ دکھے اُس کا 
جس نے دل دُکھایا

فریاد کر رہی ہے ترسی ہوئی نگاہ
دیکھے ہوئے کسی کو بہت دن گزر گئے



No comments:

Post a Comment