کوئی خاموش ہو جائے تو ہم تڑپ جاتے ہیں فراز
ہم خاموش ہوئے تو کسی نے حال تک نہ پوچھا
تجھ پہ کھل جاتی میری روح کی تنہائی بھی
میری آنکھوں میں کبھی جھانک کے دیکھا ہوتا
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اُس میں ہیں آفاق
نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے
خد ا کرے نیا سال سب کو راس آئے
احساس محبت کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے
تیرے بغیر بھی تیرے ساتھ رہتاہوں
ہم نے چرچا بہت سنا تھا تیری سخاوت کا
کیا معلوم تھا تم درد بھی دل کھول کر دیتے ہو
پوچھا تھا اُس نے حال بڑی مدتوں کے بعد
کچھ پڑ گیا ہے آنکھ میں ،یہ کہہ کے رو پڑے
لاؤں گا کہاں سے جدائی کا حوصلہ
کیوں اس قدر میرے قریب آگئے ہو تم
یہ پہاڑوں کا ظرف ہے ورنہ
کون دیتا ہے دوسری آواز؟
ترک الفت جو کیا ہے تو سنبھالو خود کو
کیوں میرے خوابوں میں روز چلے آتے ہو
کبھی نہ کھبی وہ میرے بارے میں سوچے کی ضرور
کہ حاصل ہونے کی اُمید بھی نہیں پھر بھی وفا کرتا تھا
وہ سامنے تھا مگر اس کو نگاہ چھو نہ سکی
یہ احترام کی حد تھی یا حوصلے کا کمال؟
ہم تجھ پر اپنی جان تک لٹا دیں گے
تو ہم سے ہم جیسی محبت تو کر کے دیکھ
ہم سادگی میں جھک کیا گئے
تم نے گرا ہوا ہی سمجھ لیا
No comments:
Post a Comment