رات ہے اندھیری بہت ،اک دیا ہی جلا دے
میں بسوں کا جاگا ہوں ،مجھے سلا دے کوئی
میں نے کہا اگر بھول جاؤ ہمیں تو کمال ہو جائے
ہم نے تو فقط بات کی اور اُس نے کمال کر دیا۔
دیدار یار کا کوئی تو بہانہ ڈھونڈ
سہا نہ موسم تو میری جان لئے جا رہا ہے۔
یادیں اُن کی ہی آتی ہیں جن سے کچھ تعلق ہو
ہر شخص محبت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔۔۔
گنو نہ زخم ،نہ دل سے اذیتیں پوچھو
جو ہو سکے تو حریفوں کی نتیں پوچھو
روٹھ جانے کی ادا ہم کو بھی آتی ہے
کاش ہوتا کوئی ہم کو بھی منانے
محبت ملی تو نیند بھی اپنی نہ ہی فراز
گم نام زندگی تھی تو کتنا سکون تھا
کبھی دیکھو دھوپ میں کھڑے تنہا شجر کو
ایسے جلتے ہیں وفاؤں کو نبھانے والے
یہ سوچ کے اس کو میں نے روکا ہی نہیں
دور جاتا ہی کیوں اگر وہ ہمارا ہوتا
تم ہو چاہا تو محبت کی سمجھ آئی
ورنہ اس لفظ کی تعریف سنا کرتے تھے
وہ مجھ سے دور ہو کر خوش ہے تو رہنے دو اُسے
مجھے چاہت سے زیادہ اُسکی مسکراہٹ پسند ہے
سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے
جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلا نہ کرے
یقین ہے کہ نہ آئیں گے وہ کم سے ملنے
پھریہ دل کو میرے انتظار کیسا ہے
اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
No comments:
Post a Comment