Thursday, 15 March 2018

poetry 5





تم آؤ گئے تو پھولوں کی برسات کریں گے
موسم کے فرشتوں سے میری بات ہوئی ہے


تم نادان ہو تم کیا جانو، کیا قدر میرے پیار کی ہے
نہ جیتا ہوں نہ مرتا ہوں ،مجھے محبت تم سے انتہا کی ہے

اور کیا جاہتے ہو مقام اپنا

کہہ تو دیا ہے زندگی ہو تم


سچی خوشی کی آس نہ ٹوٹے دیا کرو
جھوٹی تسلیوں سے بہلتے رہا کرو


یہ محبت کا بندھن بھی کتنا عجیب ہوتاہے
مل جائیں تو باتیں لمبی، بچھڑ جائیں تا یادیں لمبی

نگاہیں نہ پھرو چلے جائیں گے ہم
مگر اتنا یاد درکھوں ،یاد آئیں گے ہم


کچھ ایسی محبت اُ س کے دل میں بھر دے یا رب
کہ وہ جس کو بھی چاہے وہ میں بن جاؤں





بے قراری میری دیکھ لی ہے تو اب میرا ضبط بھی دیکھنا


اتنا خاموش رہوں گا کہ چیخ اُٹھے گا وہ

تیری خواہش بس تیری اُمید کرتا ہے کوئی

دیکھ کر تجھ کو میری جاں عید کرتا ہے کوئی


مانا کہ میں نے غور سے دیکھا نہ تھا تمہیں 
سورج کو آنکھ بھر کے کوئی دیکھتا ہے کیا؟

تھوڑی سے اور ،زخم کو گہرائی مل گئی
تھوڑا سا اور ،درد کا احساس گھٹ گیا

یہ زندگی بڑی عجیب سی، کبھی گلزار سی کبھی بیزار سی

کبھی خوشی ہمارے ساتھ ساتھ ہے کبھی غموں کی غبار سی


خود کو بھی بیچ ڈالا ہم نے پھر بھی نہ ملی
بازار محبت میں وفا سب سے مہنگی نکلی

بنا دو مجھے وزیر عشق اس دنیا کا اے محبت کرنے والوں

وعدہ ہے ، ہر بے وفا کو سزائے موت دونگا


No comments:

Post a Comment