پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا
میں موم ہوں اُس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
اُس کی محبت کا سلسلہ بھی کیا عجیب تھا
اپنا بھی نہ بنایا اور کسی کا ہونے بھی نہیں دیا
جس نگر میں بھی جاؤ قصے ہیں کمبخت دل کے
کوئی لے کر رو رہا ہے ،کوئی دے کر رو رہا ہے
بہت تھے میرے بھی اس دنیا میں اپنے
پھر عشق ہوا اور ہم لاوارث ہو گئے
کتنے مجبور ہیں ہم پیار کے ہاتھوں
نہ تجھے پانے کی اوقات نہ تجھے بھول جانے کا حوصلہ
بدلا ہو اآج میری آنسوؤں کا رنگ
پھر دل کے زخم کا کوئی ٹانکا اُدھڑ گیا
بیشک مشکل وقت بتا کر نہیں آتا مگر
سکھا کر اور سمجھا کر بہت کچھ جاتاہے
وجوہات میرے روٹھ جانے کی بہت ہیں لیکن
اس خیال سے چپ ہوں پھر منائے گا کون
دل پہ لگے ویسے تو گھاؤ بہت
اک تیرا بچھڑنا مجھے خاموش کر گیا
نہ تجھے پانے کی اوقات نہ تجھے بھول جانے کا حوصلہ
بدلا ہو اآج میری آنسوؤں کا رنگ
پھر دل کے زخم کا کوئی ٹانکا اُدھڑ گیا
بیشک مشکل وقت بتا کر نہیں آتا مگر
سکھا کر اور سمجھا کر بہت کچھ جاتاہے
وجوہات میرے روٹھ جانے کی بہت ہیں لیکن
اس خیال سے چپ ہوں پھر منائے گا کون
دل پہ لگے ویسے تو گھاؤ بہت
اک تیرا بچھڑنا مجھے خاموش کر گیا
No comments:
Post a Comment